کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے تین اہم سوال؟ ان سوالوں کا تسلی بخش جواب جاننا، کامیابی کی ضمانت ہے۔
ایک بہت مشہور ویب سائٹ جس کا نام TED دنیا بھر کے بہت پڑھے لکھے لوگوں کے لیکچر ز نشر کرتی ہے۔ میں ان لیکچرز کو باقاعدگی کے ساتھ سنتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ ان میں سے اگر کوئی چیز مجھے اچھی لگے تو میں آپ لوگوں کے ساتھ بھی اس کو شیئر کروں۔ ان میں ایک لیکچر کا خلاصہ آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔
چند دن پہلےمیں نے امریکی نژاد ایک افریقی خاتون کا انتہائی دلچسپ لیکچر سنا ۔ جس نے پہلی مرتبہ وہاں پر کسی بڑی سیاسی پوسٹ کے لئے الیکشن لڑا۔ اس نے اپنی ساری داستان بتائی۔ اس نے کہا کہ جب میں نے یہ طے کیا کہ میں نے الیکشن لڑنا ہے تو سب سے پہلے میں نے اپنے آپ سے تین سوال پوچھے اور مجھے ان سوالوں کا جواب حاصل کرنے میں کئی ماہ کا وقت لگا۔ جب مجھے تسلی بخش جواب مل گئے تو میں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور میں کامیاب ہوئی۔
میں آپ سے گزارش کروں گا جب بھی آپ کوئی کام کریں تو ان تین سوالوں کا جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔
پہلا سوال ہے کہ یہ کام کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اس سے مجھے حاصل کیا ہوگا؟ میں سیاست کروں گا، کاروبار کروں گا، یونیورسٹی میں ڈگری کے لیے داخلہ لوں یا پھر کوئی بھی اور ایک بہت بڑا پروگرام کروں، آرگنائزیشن بناؤں یا خیراتی ادارہ بناؤں، میں اس سے حاصل کیا کرنا چاہتا ہوں؟ آپ یقین کریں کہ اگر مقصد چھوٹا ہو گا تو کام بھی چھوٹا ہوگا، اگر مقصد بڑا ہوگا تو کام بھی بڑا ہوگا۔
جب ہم نے تعاون فاؤنڈیشن بنانے کافیصلہ کیا تو یہی “کیا” کا سوال ہم نے اپنے آپ سے کیا کہ ہم اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اور ہم نے یہ سوچا کہ ہم ایسا اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ آگاہی کی کمی کی وجہ سے ہمارے ہاں بہت سارے مسائل ہیں، اگر آگاہی بڑھ جائے گی تو ہمارے مسائل بھی کم ہو جائیں گے۔مثال کے طور پرہمیں پولیو کے مرض بارے پتا لگ جائے تو پولیو کے قطرے پلانےسے پولیو ختم ہوسکتا ہے، اسی طرح ہمیں تھیلیسیمیا کا پتہ لگے جائے تو تھیلیسیمیا ختم ہو سکتا ہے اور اگر ہمیں ہیپاٹائٹس کا پتہ لگ جائے تو ہیپاٹائٹس ختم ہو سکتا ہے۔
ہم یہ چاہتے ہیں اس آگاہی کو ہم لوگوں کے پاس لے کر جائیں اور لوگ اس کو سمجھیں۔ اس وجہ سے اگر میں کچھ جانتا ہوں تو یہ میری ذمہ داری ہے اگر آپ کچھ جانتے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ وہ چیز لوگوں تک پہنچائیں۔ آپ مجھے کھانے کے لئے کچھ دے دیں تو وہ میں صبح کھاؤں گا تو شام تک ختم ہو جائے گا۔ اگر آپ مجھے عقل و شعور دیں گے تو یہ میرے ساتھ سالہا سال چلے گا۔ تو ہم یہ کام کرنا چاہتے ہیں اگر میں کچھ جانتا ہوں آپ کچھ جانتے ہیں دنیا کا میڈیا ہمارے پاس ہے ہم اس سے یہ بات پھیلاسکتے ہیں۔ تو ہم یہ کر کے اپنی ذات کی ذمہ داری جو اس معاشرےمیں مجھ پر ڈالی گئی ہے میں اس سے بری الذمہ ہونا چاہتا ہوں۔ یہ تھا پہلے سوال کا جواب۔ یعنی ہم شعور اور آگہی کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔
آپ بھی اسی طرح اپنے آپ سے سوال کا جواب حاصل کر سکتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جس قدر واضح جواب آپ کے پاس ہو گا، اسی قدر کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ میں کیوں کرنا چاہتا ہوں؟ اس کا جواب اگر نہیں ہو گا تو آپ کام کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ شہرت چاہتے ہیں؟ دولت اکٹھی کرنا چاہتے ہیں؟
اگر میں تعاون فاؤنڈیشن پاکستان کی مثال دوں تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بحثیت مسلمان اور پاکستانی کے ہم اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ اس سوسائٹی کا ہم پر قرض ہے۔ آپ بھی کوئی کام کرنے سے پہلے اس “کیوں” کا جواب ضرور حاصل کریں۔
تیسرا سوال یہ تھا کہ یہ کام کیسے کیا جائے۔ صحیح راستے کا انتخاب بہت سارے مسائل کا حل ہے ۔ تعاون فاؤنڈیشن پاکستان کا کام شروع کرنے سے پہلے ہم نے بے شمار دوستوں سے مشاورت کی۔ پرنٹ میڈیا پر ہم نے بات کی، الیکٹرونک میڈیا کا ہم نے سوچا، پرنٹڈ میٹریل کی ہم نے بات کی، پھر ہم نے سوچا کہ اس وقت ہمارا سوشل میڈیا بہت مضبوط ہے، ہم اس سوشل میڈیا کو استعمال کریں گے، پھر ہم نے لیکچر سیریز شروع کی, مختلف پڑھے لوگ جو اپنی اپنی فیلڈ میں ماہر تھے ان کو اس میں شامل کیا۔ مختلف آرگنائزیشن کے ساتھ ہم نے MOU سائن کیے اور کر رہے ہیں، تاکہ ہم مل جل کر کام کریں۔
میرے دوستوں تعاون فاؤنڈیشن پاکستان نے تین سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے بعد ہی اپنا کام شروع کیا۔ آپ سے گزارش ہے آپ کوئی بھی کام کرنا چاہے وہ کاروبار ہو ، کوئی فاؤنڈیشن بنانے کا کام ہو، کوئی کمپنی بنانے کا کام ہو، وہ کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا کام ہو۔ ان تین سوالوں کا جواب آپ لوگ ضرور ڈھونڈیں۔
میں تو ایسا سوچتا ہوں
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ
چیئرمین تعاون فاؤنڈیشن پاکستان
نوٹ: اغراض و مقاصد سے بھرپور یہ تحریر تعاون فاؤنڈیشن پاکستان کے پلیٹ فارم سے دوبارہ شئیر کی جارہی ہے۔

Facebook Comments Box